جذبہ ترحم سے انسان کا قتل نوعیت مسئلہ، تاریخی اور شرعی نقطہ نظر )

Authors

  • محمد شمیم اختر قاسمی اسٹنٹ پروفیسر عالیہ یونیورسٹی ، کلکتہ، مغربی بنگال، انڈیا۔

Abstract

جب کبھی کوئی آدمی شخصی یا گھر یلو الجھنوں اور سماجی ذمہ داریوں سے دو چار ہوتا ہے، یا اپنے حسب منشا عہدہ و منصب کے حصول میں نامراد ہوتا ہے، یا زندگی کے کسی بڑے امتحان میں نا کام ہوتا ہے تو وقتی طور پر اس کا رنج اسے بہت ہوتا ہے۔ اس کرب میں کچھ لوگ خود کشی کے ذریعہ اپنی محترم جان کو ہلاک کر لیتے ہیں، تا کہ آئندہ ان کا واسطه مزید ناکامیوں اور نامرادیوں سے نہ پڑے۔ اس نامناسب اقدام کو کسی بھی ملک اور سماج و معاشرہ میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اسلام بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ جب کہ ملکی قانون میں یہ اقدام بذات خود قابل مواخذہ نہیں ہے، کیوں کہ ہر شخص اپنی ذات کا مالک ہے اور وہ اس میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ البتہ اقدام خودکشی کو جرم ضرور قراردیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ کوئی شخص خودکشی کا اقدام کرے اور کسی وجہ سے وہ اس میں ناکام ہو جائے تو ایسی صورت میں اسے قید کی سزادی جائے گی ، جس کی مدت دس سال تک ہو سکتی ہے اور اسے مالی جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ (۱)
لیکن کیا کیا جائے مغربی تہذیب کا۔ اس نے ترقی اور مساوات کے نام پر انسانیت کے گلا گھونٹنے کا تحیہ

Downloads

Published

2013-01-03

How to Cite

محمد شمیم اختر قاسمی. (2013). جذبہ ترحم سے انسان کا قتل نوعیت مسئلہ، تاریخی اور شرعی نقطہ نظر ). Jihat-ul-islam, 7(1), 101–127. Retrieved from https://jihat-ul-islam.com.pk/journal/index.php/jihat-ul-islam/article/view/536