نبوت محمدی ﷺ کی آفاقیت : آغاز ، اعلان و تعین
Abstract
ایک صحیح حدیث نبوی کے مطابق حضرت محمد بن عبداللہ ہاشمی ﷺ کی نبوت کا آغاز روز ازل ہی میں ہو گیا تھا۔
جامع ترندی کی حدیث شریف: ۹-۳۶ کے مطابق ارشاد نبوی ﷺ کے مبارک الفاظ ہیں:
كنت نبيا و آدم بين الماء والطین میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام پانی اور مٹی کے درمیان تھے ، یعنی جب انکی تخلیق کا خمیر اٹھا تھا۔ )
بعض روایات و احادیث میں دوسرے الفاظ و تعبیرات بھی دسری سندوں سے مروی ہیں۔ مگر ان کا مفہوم و اطلاق یکساں ہے۔ محدثین و شارحین کرام نے ان تمام ارشدات عالیہ کا یہی مفہوم متعین کیا ہے کہ ارادہ و علم الہی میں نبوت محمدی اول روز سے متعین ہو چکی تھی۔ صحیح بخاری کی کتاب المناقب کے باب خاتم النبین کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے نبوت محمد کی آفاقیت سے متعلق ایک حدیث نقل کی ہے جو مذکورہ بالا حدیث ترندی کی دوسری تعبیر ہے۔ حضرت عرباض بن ساریہ کی مرفوع حدیث کے الفاظ مبارکہ یہ ہیں: "انی عبدالله و خاتم النبین و ان آدم لمنجدل في طينة . امام بخاری نے تاریخ میں اور امام احمد نے مسند میں اس کی روایت کی ہے۔ (1)

