التوحید کے اجتماعی و سیاسی مضمرات ( اسماعیل راجی الفاروقی کے نظریہ امت و خلافت کا تجزیاتی مطالعہ )
Abstract
نظریہ اس مقالے میں ممتاز فلسطینی نژاد امریکی مفکر و دانش ور اسماعیل راجی الفاروقی ( ۱۹۲۱ - ۱۹۸۶ء) کے امت و خلافت کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ الفاروقی نے اپنی شاہر کار تصنیف ” التوحید: نظریہ اور زندگی کے لیے اس کے مضمرات (1) میں عقیدہ توحید کی ایک نئی تعبیر پیش کی ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انھوں نے ایک نیا علم الکلام مرتب کیا ہے، جسے سیاسی علم الکلام (Political Theology) قرار دیا جا سکتا ہے۔ الفاروقی کی اس تعبیر کے مطابق عقیدہ توحید صرف وجود باری یا ذات وصفات باری ہی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بہت سے اخلاقی ، معاشی اور اجتماعی و سیاسی مضمرات کا حامل ہے۔ یہ عقیدہ اپنے ماننے والوں سے ایک امت کی تشکیل و تنظیم کا متقاضی ہے، کہ جس کے بغیر نہ صرف یہ کہ اسلام اجتماعی زندگی میں جاری و نافذ نہیں ہو سکتا بلکہ خود امت کے حقوق و مصالح کا تحفظ بھی ممکن نہیں۔ الفاروقی کے اس نظریے کے مطابق امت کی قرآنی اصطلاح لازماً سیاسی مضمرات کی حامل ہے، اور امت سے لازمی طور پر اسلام کا اجتماعی و سیاسی نظام مراد ہے۔ الفاروقی کی اس تعبیر کا اچھوتا پہلو یہ ہے کہ انھوں نے قرآنی اصطلاح ” امت سے کلیتا خلافت و حکومت اور دارالاسلام ( اسلامی ریاست ) مراد لیے ہیں۔ الفاروقی نے امت کے جو لازمی خصائص بیان کیے ہیں، ان کا من وعن اطلاق اسلامی ریاست پر بھی کیا ہے۔ الفاروقی کا یہ طرز فکر عصر جدید میں اسلامی نظریہ ریاست کے ممتاز شارح سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹ء) کے دینی تفکر سے بہت حد تک ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے، کہ جنھوں نے قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات: الہ، رب، عبادت، اور دین، سے حکومت الہیہ کے نظریے کا اخذ و استنباط کیا (۲) اور دین کو ریاست کے مترادف قرار دیا (۳)۔
اس مقالے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اول میں اسماعیل الفاروقی کے احوال و آثار کا تذکرہ کیا

