منصب نبوت کا تشریعی مقام
Abstract
اسلام کامل ضابطہ حیات ہونے کے ناطے ، فکری اساسیات اور عملی تعلیمات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیادی تعلیمات جو کہ مسلمانوں کا دستور ہے قرآن میں موجود ہیں لیکن اس دستور کی تشریح و توضیح کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ اور یہ ضرورت الہامی تشریح و توضیح یعنی سنت وحدیث کی شکل میں مہیا کی گئی ہے۔ چونکہ عملی دین کی دعوت کے لیے عملی نمونہ ایک طبعی و فطری ضرورت ہے لہذا یہ ضرورت رسول اللہ صلی علیم کو بطور نمونہ پیش کر کے پوری کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (1)
بے شک نبی کریم کی ذات تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
مذکورہ بالا آیت نے دینی اور دنیاوی تمام امور میں رسول اللہ صلی علی یم کو اسوہ قرار دیا اور اسے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے لیے اساس قرار دیا ہے۔ قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو بڑے ہی حکیمانہ انداز سے بیان کیا ہے۔ اور اگر کوئی طالب حق ان تمام مقامات کو پڑھے تو سنت کی حجیت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی فرضیت میں اس کو کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔

