فقہ اسلامی میں حق عقد کا بے جا استعمال
Abstract
لغوی اعتبار سے "عقد" باندھنے اور مضبوط کرنے کو کہتے ہیں۔ عقد کا اطلاق کسی شے کے اطراف کو جمع کرنے پر بھی ہوتا ہے۔ يُقَال عَقَدَ الحَبل : إِذَا جَمَعَ أَحَدَ طَرَفَيْهِ عَلَى الْآخَرِ وَرَبَطَ بَيْنَهُمَا (۱)۔
اصطلاحی اعتبار سے "عقد" کے دو مفہوم متداول ہیں:
66 (الف) جصاص کہتے ہیں: " هو كل ما يقعده الشخص ان يفعله هو ، او يعقد على غيره فعله على وجه الزامه ایاه (۲) عقد آدمی کے کسی کام کرنے کے عزم کا نام ہے یا کسی دوسرے شخص سے متعلق اپنے کسی کام کا علی وجہ الالزام عزم عقد کہلاتا ہے ۔ اسی بنا پر بیع ، نکاح ، عقود معاوضات، مستقبل سے متعلق حلف، عہد، امان وغیرہ پر عقد کا اطلاق کیا جاتا ہے کیوں کہ ہر فریق عقد اپنے اوپر کسی کام کو لازم ٹھہراتے ہیں۔ (۳)

