علم الآثار کے تناظر میں منتخب قرآنی آثار کا جائزہ
Abstract
قرآن مجید کے کچھ مقامات کو سمجھنے کے لیے علم الاثار کی ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ جدید علم ، قدیم آثار ، کھنڈرات اور مدفون تہذیبوں سے بحث کرتا ہے۔ اور قرآن مجید میں ایسے متعدد مقامات ہیں، کہ جن کو اس فرن کی بدولت بہترین طریقے پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اور آج کے جدید معلومات کے حامل انسان کو، آرکیالوجی کی بنیاد پر، قرآنی صداقتوں کا قائل کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں، اثریات (Archaeology) کی جدید تحقیقات کے حوالے سے، تین قرآنی مقامات کو منتخب کیا گیا ہے۔
اثریات (Archaeology) کی دریافتوں نے گمشدہ انسانی تہذیبوں کے خدوخال بہت نمایاں کر دیئے ہیں، اور ماہرین علم الآثار نے ان مدفون تہذیبوں کو احتیاط سے اکٹھا کر کے تاریخ کی بہت سی مستور حقیقتوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اور قرآن حکیم نے جن جن آثار عبرت کی جانب انسان کی توجہ دلائی تھی ، آج وہ رمز و اشارے اپنی پوری تفصیل کی ساتھ آرکیالوجی کی بدولت ہمارے سامنے آگئے ہیں۔ اور اسی طرح جن جن علاقوں و شخصیات کی جانب قرآن نے اشارہ کیا تھا آج قرآن کریم کے اس اجمال کو علم الآثار نے تفصیل اور دلیل مہیا کر دی ہے۔

