سرسید احمد خاں ۔ مغربی اثرات اور تفسیری تجدد پسندی
Abstract
سرسید احمد خال (۰۱۸۱۷-۱۸۹۸ء) نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ مسلمانوں کی سیاسی، معاشی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا دور تھا ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کو شکستہ خاطر کر دیا تھا۔ قومی امنگ، جوش و خروش ، بلندی و برتری اور ترقی و کامرانی کا تصور کوسوں دور تھا۔ سرسید نے کل کی حاکم قوم کو ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے ہوئے دیکھا۔ انگریزوں کی حکومت اور ان کی ساحرانہ تہذیب کے مناظر دیکھے۔ ان کو ملازمت، رفاقت اور دوستی و تعارف کے ذریعے مستشرقین اور انگریز حکمرانوں اور صاحبان علم و حکمت سے گہرا واسطہ پڑا۔ وہ ان کی ذہانت ، قوت عمل اور تمدن و معاشرت سے ایسے متاثر ہوئے جیسے کوئی مغلوب ، غالب اور کمزور ، طاقتور سے متاثر ہوتا ہے ۔ انہوں نے شخصی طور پر انگریزی تہذیب اور معاشرت کو اختیار کیا اور بڑی گرم جوشی اور قوت کے ساتھ اس کی دعوت دی ۔ ان کا خیال تھا کہ اس ہم رنگی ، حاکم قوم کی معاشرت و تمدن اختیار کرنے اور ان کے ساتھ بے تکلف رہنے سے وہ مرعوبیت اور اور احساس کمتری و غلامی دور ہو جائے گا جس میں مسلمان مبتلا ہیں، حکام کی نظر میں ان کی قدر و منزلت بڑھ جائے گی اور وہ ایک معزز درجہ کی قوم کے افراد معلوم ہونے لگیں گے ۔ انہوں نے ۱۸۶۹ء میں لندن کا سفر اختیار کیا، اور ۱۲ اکتوبر ۱۸۷۰ء کو مغربی تہذیب کے گرویدہ اور ہندوستان کی مسلم سوسائٹی میں مغربی اقدار واصول کی بنیاد پر اصلاح و تغیر کے پر جوش داعی اور مبلغ بن کر اپنے سفیر انگلستان سے ہندوستان لوٹے۔ ان کا نقطہ نظر خالص ماوی ہو گیا ۔ وہ مادی طاقتوں اور کائناتی قوتوں کے سامنے بالکل سرنگوں نظر آنے لگے۔

