برصغیر کی امتزاجی تہذیب کی تشکیل میں کثیر مذہبی روایات کے اثرات ، تاریخی مطالعہ

The Effects of Multi-religious Traditions in The Formation of a Mixed Civilization of the Subcontinent, A Historical Study

  • Dr.Kalsoom Pracha The Women University Multan
  • Munazza Hayat
Keywords: Subcontinent , intermingled Civilization,Hinduism, Islamic culture ,Religious Concomitant

Abstract

 The society of subcontinent is a miscellany society since a very long time. In this society two sections have always remained prominent on local level. The first community although is little in number but is comprised of advance religions, collective notions and social machinery. The second group is based on many a man who is rather inferior in social status. The mixture of these two groups helped develop indigenous civilization. The third element has developed from such foreign upshot that, adopting serene or violent sources, penetrated the country. The bases of present civilizational inheritance of the subcontinent are taken from these sections. Different civilizations burgeon and develop fairly naturally according to the particular thinking of that people due to the association of these elements. This pattern continued clan after clan. Keeping this in view, the analysis of the effects of this intermingled civilization that came as a result of the relation among the Hinduism,Budhism, Muslim and the local civilizations in subcontinent is discussed in this article.

References

تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات، (مترجم : محمد مسعود احمد ) مجلس ِ ترقی ِ ادب ،کلب روڈ ،لاہور ،2002 ء ،ص 88،89
جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کا شمالی علاقہ ہے جومغربی گھاٹیوں اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع ہے ۔اس خطےمیں کیرالہ کے چھ شمالی اضلاع شامل ہیں ۔(ttps://ur.m.wikipedia.org ,
accessed:4/1/2019 )
عبدالمجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ادارہ ثقافت اسلامیہ کلب روڈ ، لاہور ،ص 496
بارتھ اپنی کتاب " ریلیجنز آف انڈیا " میں لکھتا ہے کہ " خلافت اسلامیہ کے عرب ان سواحل پر سیاحوں کی حیثیت سےآئے تھے ۔اور اپنے ہم مذہب افغانوں ، ترکوں اور منگولوں سے (جو فاتحین کی حیثیت سے آئے تھے ) بہت پہلے ان علاقوں سے تجارت اور میل ملاپ کے تعلقات قائم کر چکے تھے اور یہی وہ علاقے ہیں جن میں نویں صدی سے باھویں صدی عیسوی تک وہ عظیم مذہبی تحریکیں نودار ہوئیں جو شنکر اچاریا، رامانُج ،انندتیرتھ اور بساؤ کے ناموں سے منسوب ہیںA.Barth,The Religions Of India ,Kegan-Paul,Trench,tru:bner&Co,London,1890,p21))
Shankara ,Students Encyclopedia Britannia – India (2000) , vol. 4 , p .379
“ Ramanuja”Encyclopaedia Britannica online. Encyclopaedia Britannica Inc. , 2018.Web. 07 May. 2018.www.britannica.com /biography/Ramanuja >
Brown :MadrasJournal of Literature and Science, January 1840, P.146.
Ma cAuliffe The Sikhs ,vol.V P.102
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص496
https://www.britannica.com/topic/Advaita-school-of -Hindu-philosophy, seen 6/1/2019
“ Ramanuja”Encyclopaedia Britannica online. Encyclopaedia Britannica Inc. , 2018.Web. 07 May. 2018.www.britannica.com /biography/Ramanuja >
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص497
www.britannica.com/biography/Basava. 5/1/2019
Prabhavati-C.Reddy,Hindu Pilgrimage,Routledge,London and New York,2014,p118
Brown: Madras Journal of Literature and Science , January 1840, P. 146
تناسخ ،آواگان، جون بدلنا، ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف نفس ِ ناطقہ کا انتقال ہندوستان میں اس اعتقاد کے لوگ عام ہیں۔اسلامی دنیا میں بھی متعددفرقے اس کے معتقد ہیں۔البیرونی نے کتاب فی ماللہندالخ، طبع لنڈن ،1887 ء میں تناسخ پر ایک باب لکھا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ جس طرح شہادت بہ کلمہ اخلاص مسلمانوں کے ایمان کا شعار ہے ،تثلیث علامت نصرانیت ہے ۔اور سبت منانا ، یہودیت اس طرح تناسخ ہندو مذہب کی نمایاں علامت ہےB.CARRA DE VAUX ) ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج 6 ، ص 651)
تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات ،ص283
ایضاً ص 363
Macauliffe, Max Arthur,The Sikh Religion , Oxford University Press,1909,Vol.VI,p.94
M.Narasimhachary ,SRI RAMANUJA,Sahitya Akademi,2004,p.17
تیرتھ کی جمع ،نہانے کی جگہ ، درشن ،زیارت ،یاترا ، مقدس مقام یا جگہ جہاں لوگ یاترا کے لیئے جائیں ۔ایسے مقام عموماً دریا ؤں کے کنارے ہوتے ہیں ۔ مولوی فیروز الدین ،فیروز اللغات ، چوتھی اشاعت ، فیروز سنز لمیٹڈ لاہور 2011 ء ، مادہ ت ۔ی ص 432
تارا چند ، تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات ،ص 145
چمڑا بنانے والا ،موچی جوتیاں سینے یا گانٹھنے والا ، مولوی فیروز الدین ،فیروز اللغات ،مادہ چ۔م ، ص 562
تاراچند ،تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات، ص 253، 254 ، ایضاً عبد المجید سالک ، مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص 497
عزیز احمد ،پروفیسر، بر صغیر میں اسلامی کلچر،(مترجم جمیل جالبی) ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور ، ص 120
ایضاً ص 130
بھگت کبیر میں اترپردیش کے مشہور صوفی شاعراور سنت تھے۔اترپردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے علاقہ مگھرکے مقام پر وفات پائی ۔ ذات پات کے بندھنوں اور مذہبی تفریق سے نفرت تھی ۔توحید کے قائل تھے۔ان کے اشعار سکھ مت کی گرو گرنتھ میں بھی شامل ہیں ۔( timesofindia.indiatimes.com , accessed 6/1/2019)
محسن فانی، دبستان مذاہب، ص 186
لودھی خاندان کے دوسرے حکمران تھے ۔1489 ء میں اپنے والد بہلول لودھی کی وفات کے بعد حکمران بنے آگرہ کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی ۔سکندر کا زمانہ 1489ء ۔ 1517ء تھا اور لودھی خاندان کا دور 1415ء ۔ 1526 ء تک تھا ۔( History.Primus Books.pp122-125.ISBN 978-9-38060-734-)
عبد المجید سالک ، مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص 503
نانک کی پیدائش 1469ءکو ننکانہ صاحب میں ہوئی اوروفات 1539ء میں کرتار پور میں ہوئی۔گرونانک سکھ مت کے بانی اور پہلے گرو تھے ۔ گرونانک کو " زمانے کا عظیم ترین مذہبی موحد " قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک منفرد روحانی ،سماجی اور سیاسی نظام ِ تربیت دیا جس کی بنیاد مساوات ، بھائی چارے ،نیکی اور حسن ِ سیرت ہے ۔ ان کی کتاب کا نام گرنتھ صاحب ہے ۔ (History.PrimusBook.pp122-125 ISBN978-9-38060-734-4)
وید ہندوؤں کی اہم ترین اور قدیم ترین تہذیبی افکار کا مجموعہ ہے۔ ویدک دھرم کو چار حصوں میں بانٹا گیا ہے ۔ رِگ وید ،سام وید ،یجر وید اور اتھر وید ۔ ہندوستانی تہذیب کی پوری عمارت ویدوں کی تعلیمات پر قائم ہے ۔ (ابو ریحان البیرونی ، ہندو دھرم ہزار برس پہلے ، نگارشات ،لاہور ، 1998ء ، سید علی عباس ،روایات تمدن ِ قدیم ، خرد افروز ،جہلم ،1967 ء)
ہندو مذہبی ادب میں وید کے بعد اپنشد ،پُران اسمرتیاں شامل ہیں۔ جن کی تعداد ہندو محقق نیل کنٹر نے 97 بتائی ہے۔ پُرانوں میں دو پُران بہت مشہور ہیں ان میں ایک متسیہ پُران اور دوسرا وشنو پُران ہے ۔ ( www. Ur.wikipedia.org/wiki/پران #cite-note-1)
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص 506
گرو نانک جوت تے سروپ ص19 بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت ، ص 13، ایضاً واحد بخش ،کپتان ، سیال چشتی، روحانیت اسلام ،مطبوعہ لاہور ،ص182
راجا رام موہن رائے (1772-1833) ہندوستانی مذہبی ،سوشل ،ایجوکیشنل ریفارمر ،جنہوں نے روایتی ہندو ثقافت کو تبدیل کیا اور ہندوستانی معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کیا ۔ان کو جدید ہندوستان کا بانی کہا جاتا ہے ۔ کلکتہ سے اصلاح کا آغاز کیا ۔( .com/Biography/Ram-Mohun – Roy accessed:. May 15 ,2018. www.Britannica)
کیشب چندرا سِن (1884ء۔1837ء) بنگالی فلاسفر اور سماجی مصلح تھے ۔1856ء میں براہمو سماج کے کارکن بنے ۔ 1866ء میں انہوں نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ،بعد میں وہ رام کرشنا کے زیر ِ اثر آ گئے تھے۔(www.britannica.com ,accessed: January 8, 2019)
سوامی دیا نند سرسوتی (1824-1883) آریا سماج کے بانی ویدانت فلاسفی کا پرچار کیا ۔ہندو اصلاحی تحریک ویدک دھرما کے بانی ہیں ۔وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سیوراج کا (1876) میں تصور دیا یعنی ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے ۔ اجمیر ان کا علاقہ رہا ہے۔( .www.Britannica.com/Biogrphy/Diyannad-Srswati accessed: May 15, 2018)
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص 508
معتمد خان ، اقبال نامہ جہانگیری ،کلکتہ ، 1865 ء ،ص 95، 96
دارا شکوہ،مغل بادشاہ شاہجہاں اور ملکہ ممتاز محل کا بڑا بیٹا ۱۶۱۵ء میں اجمیر میں پیدا ہوا ۔طبعاً کریم النفس،صلح جو، فارسی اور سنسکرت کا عالم اور تصوف کا شیدائی تھا ۔ویدانت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔1659ء میں اورنگ زیب کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔ accessed : May 7,2018) دارا شکوہhttps://ur.wikipedia.org/wiki/ (
عہد ِ شاہ جہانی کے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے نامور مشائخ میں سے ہیں ۔1058ھ میں وفات پائی ۔آپ کا اصلی وطن صدر پور تھا حضرت بختیار کاکی کے فرمان پر شیخ ابو سعید گنگوہی کے پاس جاؤ اس بنا پر گنگوہ حاضر ہوئے اور بیعت ہوئے ۔www.ur.m.wikipedia.com accessed : May 7,2018))
اکرام ،رود کوثر ،کراچی ،سن ندارد ،ص 196-197
. صوفی کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا ۔1060ھ میں پیدا ہوئے اور1142ھ میں وفات پائی ۔ (.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat), sheikh-kaleemullah-Jahanbadi accessed:May 7,2018 )
شاہ کلیم اللہ دہلوی ، مکتوبات کلیمی ،دہلی ، 1883ء،ص 74
شہزادی جہاں آرا ،دارا شکوہ کی بہن تھیں شاہجہاں اور ملکہ ممتاز کی بیٹی 1614ء میں اجمیر میں پیدا ہوئی اور 1681ء میں وفات پائی۔ (https://www.goodreaders.com/book/show/7407028,accessed: May7,2018)
بدھ مت کے دو فرقے ہیں ہنایان (چھوٹی گا ڑی) اور مہایان (بڑی گاڑی)،مہایان والوں نے عقائد میں بڑی حد تک تبدیلی کی ،ان کے نزدیک بدھ کا کوئی جسم نہ تھا اور وہ انسانوں سے بالاترتھا۔ فرقہ مہایان اپنی ذات کی بجائے دوسروں کی بھی نجات کا قائل ہے اسی لئیے بدھستواکا عقیدہ عام ہوا ۔ یہ کہتے ہیں کہ زندگی وحدت کی وجہ سے ہر انسان کی قدر دوسروں کی قدر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔
( Huston Smith,The religion of man ,ISHI Press,pp120,Jan,2013 ,ISBN:978-4-87187-223-2)
داس گبتا ،ہندو تصوف ،نیو یارک ،1959، ص 74
تارا چند، تمد ن ہند پر اسلامی اثرات ، ص 228
عالم ِ اسلام اور وسط ایشیا میں با لخصوص اسلامی تہذیب و تمدن کا عظیم الشان (مرکز)جو دریائے زرافشاں کی زیریں گزر گاہ پر ایک بڑے نخلستان میں (جو آج کل ازبکستان میں شامل) ہے ۔بخارا ازبکستان کا پانچواں بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے ۔سطح سمندر سے 722 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔اسلام سے قبل بخارا کا ذکر شاذ و نادر ہی کہیں ملتا ہے ،انحطاط کے زمانہ میں بھی بخارا ،اسلامی علم و دانش کا مرکز رہا ہے اور اسی حیثیت سے اس کی شہرت بھی قائم رہی ہے ۔( R.N.Frye و W. Barthold و ادارہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج 4، ص 110 ۔ 117)
محمد بن محمد بہاء الدین بخاری (717ھ/1317ء۔791ھ/1379ء) سلسلہ نقشبند کے بانی ہیں ۔ان کا لقب نقش بند (لفظی معنی مصور)کی تشریح "علم ِ الہی کی لا ثانی تصویر کھینچنے والا"کی گئی ہے یا جواپنے دل میں کمال ِ حقیقی کا نقش رکھنے والا ہو ، حضرت نقشبند کی ولادت بخارا سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر ایک گاؤں کشک ہندوان میں ہوئی، جسے بعد میں کشک عارفان کہا جانے لگا ۔
D.S.Mar golioouth) ، بہاء الدین نقشبند ،اردودائرہ معارف اسلامیہ ، ج22 ،ص 434۔436)
ایک قدیم شہر جس کے آثار افغانستان میں شہر مزار شریف کے قریب ایک گاؤں کے اطراف میں اب بھی موجود ہیں ۔شہر بلخ جنوب میں واقع پہاڑیوں کے دامن سے چار فرسخ اور آمو دریا سے بارہ فرسخ کے فاصلہ پر تھا۔ یہ بہت پرانا اور ہمیشہ سے معروف ہے ۔ازبکوں کے زمانہ میں پرانے بلخ کے شمال مشرق میں نئے بلخ کے نام سے ایک قصبہ بن گیا ہے پھر بھی کچھ لوگ بلخ قدیم میں ہی رہتے ہیں ۔بلخ قدیم زمانہ میں بدھ مت کا مرکز اور پورے طور پر ہندو تہذیب کے زیر ِ اثر رہا ہے ۔بلخ کی اہم پیداوار قرہ قلی ،قالین، اور برک (موٹا اونی کپڑا) ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف قسم کا غلہ مثلاً گہیوں ، جو ،جوار ، با قلا ،ماش ، لوبیا ، چنا ، کپاس ، گاجر ، شلغم ،بیگن اور تربوز وغیرہ ہیں بلخ کا خربوزہ بہت شیریں اور مشہور ہے ۔(ذکی ولیدی طوغان ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج 4 ، ص 757 ۔ 768 )
عزیز احمد ، بر صغیر میں اسلامی کلچر، مترجم : ڈاکٹر جمیل جالبی،ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ ،لاہور،1990ء،ص 178،179
R. A. Nicholson: The Mystics of Islam ,Mount San Antonio college/Philosophy Group,2016, Chao. 3,pp. 16،17
عزیز احمد ، بر صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 121
برہان الحق ابو الریحان محمد ابن احمد البیرونی (973-1048) اسلام کے عطیم عالموں اور محققوں میں سے ہیں ۔وہ اپنی آ زاد خیالی ،ادبی جرأت ،تحقیق ،بےباک تنقید اور اصابت رائے میں اپنی مثال آپ ہیں البیرونی بہت سی زبانوں کے ماہر تھے عربی زبان سے خاص محبت رکھتے تھے اس کے علاوہ فارسی ،سنسکرت ،یونانی ،سریانی اور عبرانی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے ۔وہ بیک وقت سیاح ، ریاضی دان ، ماہر ِ فلکیات ،جغرافیہ دان اور مؤرخ معدنیات اور خواص الادویہ کا ماہر اور آثار ِ قدیمہ کا عالم تھا ۔ (محمدفضل الدین قریشی،البیرونی، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج 5 ،ص 263-265 )
مادہ اور روح کا تعلق اس فلسفے کی بنیاد ہے ۔یہ فلسفہ ہندوستان کے باقی فلسفوں کی نسبت قدیم ہے ۔ اس کی تاریخ 800ق م سے 500 ق م تک بیان کی جاتی ہے ۔ایک قول کے مطابق تت وسماس نامی کتاب میں کپیلا نے اس فلسفے کی وضاحت کی ہے ۔ روح اور مادہ کے تعلق کو مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے ۔اس فلسفے میں خدا کا انکار ہے اور انسانی حیات کا دار و مدار مادہ اور روح پر ہے ۔)محمد مجیب ، تاریخ تمدن ہند ، عثمانیہ یونیورسٹی پریس،حیدر آباد دکن ،1995ء ،ص 319 (
البیرونی ، کتاب الہند ، ص 87،88
وے۔دانت ، ہندوؤں کے فلسفے اور دینیات کا ایک نظام جس میں ذات ِ الہی پر بحث کی گئی ہے ۔ فیروز اللغات ، مادہ و ۔ی ، ص 1485
تارا چند ، تمدن ہند پر اسلامی اثرات ، ص 106،107
بارتھ اپنی کتاب " ریلیجنز آف انڈیا " میں لکھتا ہے کہ " خلافت اسلامیہ کے عرب ان سواحل پر سیاحوں کی حیثیت سےآئے تھے ۔اور اپنے ہم مذہب افغانوں ، ترکوں اور منگولوں سے (جو فاتحین کی حیثیت سے آئے تھے ) بہت پہلے ان علاقوں سے تجارت اور میل ملاپ کے تعلقات قائم کر چکے تھے اور یہی وہ علاقے ہیں جن میں نویں صدی سے باھویں صدی عیسوی تک وہ عظیم مذہبی تحریکیں نودار ہوئیں جو شنکر اچاریا، رامانُج ،انندتیرتھ اور بساؤ کے ناموں سے منسوب ہیں۔( A.Barth,The Religions Of India ,Kegan-Paul,Trench,tru:bner&Co,London,1890,p24
عزیز احمد ، بر ِ صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 192
ایضاً
ایس ۔ایم ۔اکرام ،آب کوثر ، لاہور،1952ء ،ص 236
فرید الدین گنج شکر ،مسعود بن سلیمان بن شعیب، بر صغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف ولی اللہ جن کا شمار صوفیاء اسلام کے سلسلہ چشتیہ کے مشائخ عظام میں ہوتا ہے ۔قطب الدین بختیار کاکی کے جانشین بنے، پاکستان و ہند کے لکھوں مسلمان ہر دور میں ان کی عقیدت مندی کا دم بھرتے ہیں۔سن ولادت کے بارے میں اختلاف ہے 569ھ یا 584 ھ ہے اسی طرح سن وفات میں بھی اختلاف ہے 664 یا 670بتلائی جاتی ہے ۔(مرتضی احمد خان مکیش، فرید الدین گنج شکر ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج 15 ،ص 339 )
نظام الدین اولیاء،سلطان المشائخ،محبو ب الہی ،سلسلہ چشتیہ کے نامور بزرگ 636ھ کو بدایوں میں پیدا ہوئے نام سید محمد رکھا گیا ۔بے حد تیز طبع اور فصیح البیان تھے بابا فرید کے جانشین بنے 765 ھ کو وفات پائی ۔( عبد الغنی ،نظام الدین اولیاء ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج 22 ، ص 350 )
عزیز احمد، برصغیر میں اسلامی کلچر ،بحوالہ سجزی،ص 49
وہ تاگا جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں (۲) وہ دھاگا یا زنجیر جو عیسائی ،مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں ۔ فیروز اللغات، مادہ ز۔ت ،ص 795
اسم ِ گرامی شیخ عبد اللہ شطاری تھا ۔آپ کا نسب شیخ شہاب الدین سہروردی سے جا ملتا ہے۔ شیخ محمد طیفوری کے دست ِ حق پر بیعت ہوئے اور خرقہ ِ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا ۔آپ نے رسالہ اشغال شطاریہ میں اپنے سلسلہ کے مقامات و احوال قلم بند کیئے ۔شطاریہ اصطلاح میں "تیز رو " کو کہتے ہیں مگر صوفیاء میں اس شخص کو شطار کہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے رتبہ کو پہنچے ۔ وہ صوفی جو علائق دنیاوی سے کاملاًقطع تعلق کر چکا ہو "ہیں ۔شطاریوں کا فرقہ نفی کو غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیتا ہے اور صرف اثبات سے غرض رکھتا ہے ۔، آپ نے 832ھ /1429ء کو وفات پائی۔آپ کا مزار قلعہ مندو کے اندر ہے شیخ پیر میرٹھی نے آپ کا عالی شان مزار بنوایا تھا ۔www.ziaetaiba.com accessed: Febrary 2/ 2019 ، ایضاً D.S.Margoliouth) ، شطاریہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،دانش گا پنجاب ،ج 11، ص 734،735)
ابو یذ ید (با یذ ید ) البسطامی طیفور بن عیسیٰ سروشان معروف ترین مسلم صوفیاء میں سے ایک تھے ۔چند مختصر وقفوں کے سوا ، جن میں وہ راسخ العقیدہ علمائے دین کی مخالفت کے باعث اپنے شہر سے بہت دور جا کر رہنے پر مجبور ہوئے۔ با یذید نے اپنی ساری زندگی بسطام میں بسر کی اور وہیں 261ھ /874ء یا 264 ھ /877۔ 878 ء میں وفات پائی ۔ انہوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی ۔( رٹر ،H.Ritter ، ابو یذ ید بسطامی ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، پنجاب دانش گاہ لاہور ، ج 1، ص 932۔234)
عزیز احمد ، بر ِ صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 202
(:Feb2,2019 .ZIATAIBA.COM,accessed (WWWبحوالہ بہاء الدین شطاری ،رسالہ شطاریہ ، ص 6
ایضاً
بہاء الدین شطاری ، رسالہ شطاریہ ، ص 14
کامل قریشی ،ڈاکٹر،اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب ، ص 216۔217 accessed :January 8 /2019 www.urduchannal.in
مجد دیہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ تھے اٹھا ئیس واسطوں سے نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اورنگ زیب نے جان جاناں نام رکھا حافظ محمود شیرانی کے نزدیک مرزا مظہر جان جاناں نام ہے طبیعت میں تواضع ،افتقاروانکسار شیوہ تھا۔خلوت پسند تھے ۔بچپن میں ہی فقر و تصوف کا ماحول ملا۔ چار پیران ِ طریقت سے فیض حاصل کیا۔ 1195ھ/1781ء کو دہلی میں ایک نامعلوم شخص نے گولی ماری ،دو دن بعد وفات پا گئے ۔( مظہرجان جاناں ، ا دارہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج21 ، ص 272۔277)
آپ شاہ ولی اللہ کی دوسری زوجہ سے سب سے بڑے فرزند تھے ۔آپ کا مولد 1746ء اور مدفن 1824ء دہلی ہے ۔تعلیم و تربیت والد ماجد نے فرمائی ۔ شاہ صاحب کو تفسیر ، حدیث ، فقہ ، سیرت اور تاریخ کے علاوہ علم ِ ہیئت ،ہندسہ ، مجسطی ،مناظر ، اصطرلاب ،جر ثقیل ،طبیعات ، منطق ، مناظرہ ، اختلاف ملل و نحل ،قیافہ اور تاویل وغیرہ علوم و فنون پر بھی عبور حاصل تھا ۔ آپ کو عربی زبان سے بھی واقفیت تھی ۔( ڈاکٹر محمد خالد مسعود ، اٹھارویں صدی عیسوی میں برصغیر میں اسلامی فکر کے راہنما ، ادارہ تحقیقات اسلامی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد ، ص 325،327 )
اکرام ، رود کوثر،ص394
سید احمد شہید (1831-1786ء) ابتدائی تعلیم و تربیت تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی میں اپنے خاندان میں ہوئی ۔آپ امام شاہ ولی اللہ کے شاگرد اور تربیت یافتہ تھے ۔سید احمد شہید کی کوششوں سے معاشرے میں رائج بدعات و محدثات کا خاتمہ ہوا ۔آپ کے ہاتھ پر جو لوگ بیعت کرتے تھے وہ ان تین باتوں پر عمل کرتے تھے ۔ شرک سے دوری ، نماز کی پابندی اور شریعت کی پاسداری ۔سید صاحب جہاں تشریف لے جاتے تھے وہاں لوگوں کی قلبی حالت تبدیل ہو جاتی تھی اور خیر و برکت کے دروازے ان پر کھل جاتے تھے ۔(ابو الحسن ندوی ، تاریخ دعوت و عزیمت ،ج دوم ، حصہ ششم ، ص 533،534)
عزیز احمد،بر صغیر میں اسلامی کلچر،ص 239
جہانگیر بابر کی نسل سے ہندوستان کا چوتھا مغل شہنشاہ ،اکبر کا پہلا بیٹا تھا (1569ء 1667ء) جہانگیر اچھا پڑھا لکھا، ادب اورفن کا سرپرست اور انسان شناسی اور مسائل میں گہری نظر رکھنے والا نہایت شائستہ اور مہذب فرد تھا ۔ وہ ایک زیرک حکمران تھا ۔نرم اور کریم النفس بھی تھا ۔ وہ تشدد سے متنفر اور انصاف کا شیدائی تھا ۔ تخت نشینی کے فوراً ہی بعد اس گھنٹیوں سے مزین ایک طلائی زنجیر بنوا کر آگرے میں قصر شاہی میں لٹکانے کا حکم دیا تاکہ دن ہو یا رات ،کسی وقت مظلوم اور فریادی آکر اسے کھینچیں اور انصاف پائیں۔(بزمی انصاری و ادارہ، جہانگیر،اردو دائرہ المعارف الاسلامیہ ، ج 7 ، ص 548۔ 551)
معتمد خان ، اقبال نامہ جہانگیری ،کلکتہ ،1865 ء ،ص 170
عزیز احمد ،برصغیر میں اسلامی کلچر ، ص203
حاجی شریعت اللہ اس تحریک کے بانی تھے۔وہ 1781ء میں فرید پور بنگال میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم کے بعد مکہ مکرمہ چلے گئے 1818ء میں واپسی پر دینی اصلاح کا کام شروع کیا ۔اس تحریک کا مقصد فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے توبہ کرنا تھا ۔فرائض وہ جو اسلام میں فرض ہیں مثلا نماز ،روزہ ، حج وغیرہ اسی وجہ سے اس تحریک کا نام فرائضی تحریک پڑا ۔حاجی شریعت اللہ نے 1840ء میں وفات پائی ۔ (ڈاکٹر معین الدین ،فرائضی تحریک ، فکر ونظر ، اسلامک ریسرچ انڈکس ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ، والیم 7 ،ص 669۔671)
عزیز احمد ،اسلامی کلچر ،ص203
ایضاً
دُر گاہ ،ہندوؤں کی دیوی بھوانی ،شیو جی کی بیوی ، بد صورت عورت ،فیروز اللغات ، مادہ د ۔ر ، ص 659 ،
جن کا اصل نا م سید عثمان مروند ی تھا، (1177ء – 1274ء) سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، الٰہیات دان، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی رواداری کی تبلیغ کی بنا پر لعل شہباز قلندر تمام مذاہب کے پیروکاروں میں یکساں محترم تصور کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا خرقہ تابدار یاقوتی رنگ کا ہوا کرتا تھا اس لیے انہیں ‌"لعل"، ان کی خدا پرستی اور شرافت کی بنا پر "شہباز" اور قلندرانہ مزاج و انداز کی بنا پر "قلندر" کہا جانے لگا۔(سید ارتصیٰ علی کرمانی، سیرت پاك حضرت عثمان مروندی، مطبوعہ عظیم اینڈ پبلشرز ،لاہور،صفحہ 54)
اکرام ،رود ِ کوثر ، ص 17
تارا چند ، تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات ،ص 224
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ،ص 237
ایضاً ، ص 338،339
بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ گروہ ( غیر آغا خانی اسماعیلی )کی بھارتی اور پاکستانی شاخ جو ہندو سے مسلمان ہوئی۔ بوہرہ گجراتی لفظ ووہرہ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو ایک ہندو ذات تھی ،جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی، با لعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں .
( ur.m. wikipedia.org accessed: Febrary 5,2019)
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ،ص 240
ایضاٍ،ص 244
شاہ ولی اللہ ، البلاغ المبین ، لاہور ، 1890 ء، ص 33،34
شبلی نعمانی،مقالات، اعظم گڑھ 1930ء، ص4
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ، ص 245 ،246
تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات،ص 88،89
تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات، (مترجم : محمد مسعود احمد ) مجلس ِ ترقی ِ ادب ،کلب روڈ ،لاہور ،2002 ء ،ص 88،89
جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کا شمالی علاقہ ہے جومغربی گھاٹیوں اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع ہے ۔اس خطےمیں کیرالہ کے چھ شمالی اضلاع شامل ہیں ۔(ttps://ur.m.wikipedia.org ,
accessed:4/1/2019 )
عبدالمجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ادارہ ثقافت اسلامیہ کلب روڈ ، لاہور ،ص 496
بارتھ اپنی کتاب " ریلیجنز آف انڈیا " میں لکھتا ہے کہ " خلافت اسلامیہ کے عرب ان سواحل پر سیاحوں کی حیثیت سےآئے تھے ۔اور اپنے ہم مذہب افغانوں ، ترکوں اور منگولوں سے (جو فاتحین کی حیثیت سے آئے تھے ) بہت پہلے ان علاقوں سے تجارت اور میل ملاپ کے تعلقات قائم کر چکے تھے اور یہی وہ علاقے ہیں جن میں نویں صدی سے باھویں صدی عیسوی تک وہ عظیم مذہبی تحریکیں نودار ہوئیں جو شنکر اچاریا، رامانُج ،انندتیرتھ اور بساؤ کے ناموں سے منسوب ہیںA.Barth,The Religions Of India ,Kegan-Paul,Trench,tru:bner&Co,London,1890,p21))
Shankara ,Students Encyclopedia Britannia – India (2000) , vol. 4 , p .379
“ Ramanuja”Encyclopaedia Britannica online. Encyclopaedia Britannica Inc. , 2018.Web. 07 May. 2018.www.britannica.com /biography/Ramanuja >
Brown :MadrasJournal of Literature and Science, January 1840, P.146.
Ma cAuliffe The Sikhs ,vol.V P.102
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص496
https://www.britannica.com/topic/Advaita-school-of -Hindu-philosophy, seen 6/1/2019
“ Ramanuja”Encyclopaedia Britannica online. Encyclopaedia Britannica Inc. , 2018.Web. 07 May. 2018.www.britannica.com /biography/Ramanuja >
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص497
www.britannica.com/biography/Basava. 5/1/2019
Prabhavati-C.Reddy,Hindu Pilgrimage,Routledge,London and New York,2014,p118
Brown: Madras Journal of Literature and Science , January 1840, P. 146
تناسخ ،آواگان، جون بدلنا، ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف نفس ِ ناطقہ کا انتقال ہندوستان میں اس اعتقاد کے لوگ عام ہیں۔اسلامی دنیا میں بھی متعددفرقے اس کے معتقد ہیں۔البیرونی نے کتاب فی ماللہندالخ، طبع لنڈن ،1887 ء میں تناسخ پر ایک باب لکھا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ جس طرح شہادت بہ کلمہ اخلاص مسلمانوں کے ایمان کا شعار ہے ،تثلیث علامت نصرانیت ہے ۔اور سبت منانا ، یہودیت اس طرح تناسخ ہندو مذہب کی نمایاں علامت ہےB.CARRA DE VAUX ) ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج 6 ، ص 651)
تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات ،ص283
ایضاً ص 363
Macauliffe, Max Arthur,The Sikh Religion , Oxford University Press,1909,Vol.VI,p.94
M.Narasimhachary ,SRI RAMANUJA,Sahitya Akademi,2004,p.17
تیرتھ کی جمع ،نہانے کی جگہ ، درشن ،زیارت ،یاترا ، مقدس مقام یا جگہ جہاں لوگ یاترا کے لیئے جائیں ۔ایسے مقام عموماً دریا ؤں کے کنارے ہوتے ہیں ۔ مولوی فیروز الدین ،فیروز اللغات ، چوتھی اشاعت ، فیروز سنز لمیٹڈ لاہور 2011 ء ، مادہ ت ۔ی ص 432
تارا چند ، تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات ،ص 145
چمڑا بنانے والا ،موچی جوتیاں سینے یا گانٹھنے والا ، مولوی فیروز الدین ،فیروز اللغات ،مادہ چ۔م ، ص 562
تاراچند ،تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات، ص 253، 254 ، ایضاً عبد المجید سالک ، مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص 497
عزیز احمد ،پروفیسر، بر صغیر میں اسلامی کلچر،(مترجم جمیل جالبی) ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور ، ص 120
ایضاً ص 130
بھگت کبیر میں اترپردیش کے مشہور صوفی شاعراور سنت تھے۔اترپردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے علاقہ مگھرکے مقام پر وفات پائی ۔ ذات پات کے بندھنوں اور مذہبی تفریق سے نفرت تھی ۔توحید کے قائل تھے۔ان کے اشعار سکھ مت کی گرو گرنتھ میں بھی شامل ہیں ۔( timesofindia.indiatimes.com , accessed 6/1/2019)
محسن فانی، دبستان مذاہب، ص 186
لودھی خاندان کے دوسرے حکمران تھے ۔1489 ء میں اپنے والد بہلول لودھی کی وفات کے بعد حکمران بنے آگرہ کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی ۔سکندر کا زمانہ 1489ء ۔ 1517ء تھا اور لودھی خاندان کا دور 1415ء ۔ 1526 ء تک تھا ۔( History.Primus Books.pp122-125.ISBN 978-9-38060-734-)
عبد المجید سالک ، مسلم ثقافت ہندوستان میں ،ص 503
نانک کی پیدائش 1469ءکو ننکانہ صاحب میں ہوئی اوروفات 1539ء میں کرتار پور میں ہوئی۔گرونانک سکھ مت کے بانی اور پہلے گرو تھے ۔ گرونانک کو " زمانے کا عظیم ترین مذہبی موحد " قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک منفرد روحانی ،سماجی اور سیاسی نظام ِ تربیت دیا جس کی بنیاد مساوات ، بھائی چارے ،نیکی اور حسن ِ سیرت ہے ۔ ان کی کتاب کا نام گرنتھ صاحب ہے ۔ (History.PrimusBook.pp122-125 ISBN978-9-38060-734-4)
وید ہندوؤں کی اہم ترین اور قدیم ترین تہذیبی افکار کا مجموعہ ہے۔ ویدک دھرم کو چار حصوں میں بانٹا گیا ہے ۔ رِگ وید ،سام وید ،یجر وید اور اتھر وید ۔ ہندوستانی تہذیب کی پوری عمارت ویدوں کی تعلیمات پر قائم ہے ۔ (ابو ریحان البیرونی ، ہندو دھرم ہزار برس پہلے ، نگارشات ،لاہور ، 1998ء ، سید علی عباس ،روایات تمدن ِ قدیم ، خرد افروز ،جہلم ،1967 ء)
ہندو مذہبی ادب میں وید کے بعد اپنشد ،پُران اسمرتیاں شامل ہیں۔ جن کی تعداد ہندو محقق نیل کنٹر نے 97 بتائی ہے۔ پُرانوں میں دو پُران بہت مشہور ہیں ان میں ایک متسیہ پُران اور دوسرا وشنو پُران ہے ۔ ( www. Ur.wikipedia.org/wiki/پران #cite-note-1)
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص 506
گرو نانک جوت تے سروپ ص19 بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت ، ص 13، ایضاً واحد بخش ،کپتان ، سیال چشتی، روحانیت اسلام ،مطبوعہ لاہور ،ص182
راجا رام موہن رائے (1772-1833) ہندوستانی مذہبی ،سوشل ،ایجوکیشنل ریفارمر ،جنہوں نے روایتی ہندو ثقافت کو تبدیل کیا اور ہندوستانی معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کیا ۔ان کو جدید ہندوستان کا بانی کہا جاتا ہے ۔ کلکتہ سے اصلاح کا آغاز کیا ۔( .com/Biography/Ram-Mohun – Roy accessed:. May 15 ,2018. www.Britannica)
کیشب چندرا سِن (1884ء۔1837ء) بنگالی فلاسفر اور سماجی مصلح تھے ۔1856ء میں براہمو سماج کے کارکن بنے ۔ 1866ء میں انہوں نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ،بعد میں وہ رام کرشنا کے زیر ِ اثر آ گئے تھے۔(www.britannica.com ,accessed: January 8, 2019)
سوامی دیا نند سرسوتی (1824-1883) آریا سماج کے بانی ویدانت فلاسفی کا پرچار کیا ۔ہندو اصلاحی تحریک ویدک دھرما کے بانی ہیں ۔وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سیوراج کا (1876) میں تصور دیا یعنی ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے ۔ اجمیر ان کا علاقہ رہا ہے۔( .www.Britannica.com/Biogrphy/Diyannad-Srswati accessed: May 15, 2018)
عبد المجید سالک ،مسلم ثقافت ہندوستان میں ، ص 508
معتمد خان ، اقبال نامہ جہانگیری ،کلکتہ ، 1865 ء ،ص 95، 96
دارا شکوہ،مغل بادشاہ شاہجہاں اور ملکہ ممتاز محل کا بڑا بیٹا ۱۶۱۵ء میں اجمیر میں پیدا ہوا ۔طبعاً کریم النفس،صلح جو، فارسی اور سنسکرت کا عالم اور تصوف کا شیدائی تھا ۔ویدانت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔1659ء میں اورنگ زیب کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔ accessed : May 7,2018) دارا شکوہhttps://ur.wikipedia.org/wiki/ (
عہد ِ شاہ جہانی کے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے نامور مشائخ میں سے ہیں ۔1058ھ میں وفات پائی ۔آپ کا اصلی وطن صدر پور تھا حضرت بختیار کاکی کے فرمان پر شیخ ابو سعید گنگوہی کے پاس جاؤ اس بنا پر گنگوہ حاضر ہوئے اور بیعت ہوئے ۔www.ur.m.wikipedia.com accessed : May 7,2018))
اکرام ،رود کوثر ،کراچی ،سن ندارد ،ص 196-197
. صوفی کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا ۔1060ھ میں پیدا ہوئے اور1142ھ میں وفات پائی ۔ (.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat), sheikh-kaleemullah-Jahanbadi accessed:May 7,2018 )
شاہ کلیم اللہ دہلوی ، مکتوبات کلیمی ،دہلی ، 1883ء،ص 74
شہزادی جہاں آرا ،دارا شکوہ کی بہن تھیں شاہجہاں اور ملکہ ممتاز کی بیٹی 1614ء میں اجمیر میں پیدا ہوئی اور 1681ء میں وفات پائی۔ (https://www.goodreaders.com/book/show/7407028,accessed: May7,2018)
بدھ مت کے دو فرقے ہیں ہنایان (چھوٹی گا ڑی) اور مہایان (بڑی گاڑی)،مہایان والوں نے عقائد میں بڑی حد تک تبدیلی کی ،ان کے نزدیک بدھ کا کوئی جسم نہ تھا اور وہ انسانوں سے بالاترتھا۔ فرقہ مہایان اپنی ذات کی بجائے دوسروں کی بھی نجات کا قائل ہے اسی لئیے بدھستواکا عقیدہ عام ہوا ۔ یہ کہتے ہیں کہ زندگی وحدت کی وجہ سے ہر انسان کی قدر دوسروں کی قدر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔
( Huston Smith,The religion of man ,ISHI Press,pp120,Jan,2013 ,ISBN:978-4-87187-223-2)
داس گبتا ،ہندو تصوف ،نیو یارک ،1959، ص 74
تارا چند، تمد ن ہند پر اسلامی اثرات ، ص 228
عالم ِ اسلام اور وسط ایشیا میں با لخصوص اسلامی تہذیب و تمدن کا عظیم الشان (مرکز)جو دریائے زرافشاں کی زیریں گزر گاہ پر ایک بڑے نخلستان میں (جو آج کل ازبکستان میں شامل) ہے ۔بخارا ازبکستان کا پانچواں بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے ۔سطح سمندر سے 722 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔اسلام سے قبل بخارا کا ذکر شاذ و نادر ہی کہیں ملتا ہے ،انحطاط کے زمانہ میں بھی بخارا ،اسلامی علم و دانش کا مرکز رہا ہے اور اسی حیثیت سے اس کی شہرت بھی قائم رہی ہے ۔( R.N.Frye و W. Barthold و ادارہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج 4، ص 110 ۔ 117)
محمد بن محمد بہاء الدین بخاری (717ھ/1317ء۔791ھ/1379ء) سلسلہ نقشبند کے بانی ہیں ۔ان کا لقب نقش بند (لفظی معنی مصور)کی تشریح "علم ِ الہی کی لا ثانی تصویر کھینچنے والا"کی گئی ہے یا جواپنے دل میں کمال ِ حقیقی کا نقش رکھنے والا ہو ، حضرت نقشبند کی ولادت بخارا سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر ایک گاؤں کشک ہندوان میں ہوئی، جسے بعد میں کشک عارفان کہا جانے لگا ۔
D.S.Mar golioouth) ، بہاء الدین نقشبند ،اردودائرہ معارف اسلامیہ ، ج22 ،ص 434۔436)
ایک قدیم شہر جس کے آثار افغانستان میں شہر مزار شریف کے قریب ایک گاؤں کے اطراف میں اب بھی موجود ہیں ۔شہر بلخ جنوب میں واقع پہاڑیوں کے دامن سے چار فرسخ اور آمو دریا سے بارہ فرسخ کے فاصلہ پر تھا۔ یہ بہت پرانا اور ہمیشہ سے معروف ہے ۔ازبکوں کے زمانہ میں پرانے بلخ کے شمال مشرق میں نئے بلخ کے نام سے ایک قصبہ بن گیا ہے پھر بھی کچھ لوگ بلخ قدیم میں ہی رہتے ہیں ۔بلخ قدیم زمانہ میں بدھ مت کا مرکز اور پورے طور پر ہندو تہذیب کے زیر ِ اثر رہا ہے ۔بلخ کی اہم پیداوار قرہ قلی ،قالین، اور برک (موٹا اونی کپڑا) ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف قسم کا غلہ مثلاً گہیوں ، جو ،جوار ، با قلا ،ماش ، لوبیا ، چنا ، کپاس ، گاجر ، شلغم ،بیگن اور تربوز وغیرہ ہیں بلخ کا خربوزہ بہت شیریں اور مشہور ہے ۔(ذکی ولیدی طوغان ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج 4 ، ص 757 ۔ 768 )
عزیز احمد ، بر صغیر میں اسلامی کلچر، مترجم : ڈاکٹر جمیل جالبی،ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ ،لاہور،1990ء،ص 178،179
R. A. Nicholson: The Mystics of Islam ,Mount San Antonio college/Philosophy Group,2016, Chao. 3,pp. 16،17
عزیز احمد ، بر صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 121
برہان الحق ابو الریحان محمد ابن احمد البیرونی (973-1048) اسلام کے عطیم عالموں اور محققوں میں سے ہیں ۔وہ اپنی آ زاد خیالی ،ادبی جرأت ،تحقیق ،بےباک تنقید اور اصابت رائے میں اپنی مثال آپ ہیں البیرونی بہت سی زبانوں کے ماہر تھے عربی زبان سے خاص محبت رکھتے تھے اس کے علاوہ فارسی ،سنسکرت ،یونانی ،سریانی اور عبرانی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے ۔وہ بیک وقت سیاح ، ریاضی دان ، ماہر ِ فلکیات ،جغرافیہ دان اور مؤرخ معدنیات اور خواص الادویہ کا ماہر اور آثار ِ قدیمہ کا عالم تھا ۔ (محمدفضل الدین قریشی،البیرونی، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج 5 ،ص 263-265 )
مادہ اور روح کا تعلق اس فلسفے کی بنیاد ہے ۔یہ فلسفہ ہندوستان کے باقی فلسفوں کی نسبت قدیم ہے ۔ اس کی تاریخ 800ق م سے 500 ق م تک بیان کی جاتی ہے ۔ایک قول کے مطابق تت وسماس نامی کتاب میں کپیلا نے اس فلسفے کی وضاحت کی ہے ۔ روح اور مادہ کے تعلق کو مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے ۔اس فلسفے میں خدا کا انکار ہے اور انسانی حیات کا دار و مدار مادہ اور روح پر ہے ۔)محمد مجیب ، تاریخ تمدن ہند ، عثمانیہ یونیورسٹی پریس،حیدر آباد دکن ،1995ء ،ص 319 (
البیرونی ، کتاب الہند ، ص 87،88
وے۔دانت ، ہندوؤں کے فلسفے اور دینیات کا ایک نظام جس میں ذات ِ الہی پر بحث کی گئی ہے ۔ فیروز اللغات ، مادہ و ۔ی ، ص 1485
تارا چند ، تمدن ہند پر اسلامی اثرات ، ص 106،107
بارتھ اپنی کتاب " ریلیجنز آف انڈیا " میں لکھتا ہے کہ " خلافت اسلامیہ کے عرب ان سواحل پر سیاحوں کی حیثیت سےآئے تھے ۔اور اپنے ہم مذہب افغانوں ، ترکوں اور منگولوں سے (جو فاتحین کی حیثیت سے آئے تھے ) بہت پہلے ان علاقوں سے تجارت اور میل ملاپ کے تعلقات قائم کر چکے تھے اور یہی وہ علاقے ہیں جن میں نویں صدی سے باھویں صدی عیسوی تک وہ عظیم مذہبی تحریکیں نودار ہوئیں جو شنکر اچاریا، رامانُج ،انندتیرتھ اور بساؤ کے ناموں سے منسوب ہیں۔( A.Barth,The Religions Of India ,Kegan-Paul,Trench,tru:bner&Co,London,1890,p24
عزیز احمد ، بر ِ صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 192
ایضاً
ایس ۔ایم ۔اکرام ،آب کوثر ، لاہور،1952ء ،ص 236
فرید الدین گنج شکر ،مسعود بن سلیمان بن شعیب، بر صغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف ولی اللہ جن کا شمار صوفیاء اسلام کے سلسلہ چشتیہ کے مشائخ عظام میں ہوتا ہے ۔قطب الدین بختیار کاکی کے جانشین بنے، پاکستان و ہند کے لکھوں مسلمان ہر دور میں ان کی عقیدت مندی کا دم بھرتے ہیں۔سن ولادت کے بارے میں اختلاف ہے 569ھ یا 584 ھ ہے اسی طرح سن وفات میں بھی اختلاف ہے 664 یا 670بتلائی جاتی ہے ۔(مرتضی احمد خان مکیش، فرید الدین گنج شکر ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج 15 ،ص 339 )
نظام الدین اولیاء،سلطان المشائخ،محبو ب الہی ،سلسلہ چشتیہ کے نامور بزرگ 636ھ کو بدایوں میں پیدا ہوئے نام سید محمد رکھا گیا ۔بے حد تیز طبع اور فصیح البیان تھے بابا فرید کے جانشین بنے 765 ھ کو وفات پائی ۔( عبد الغنی ،نظام الدین اولیاء ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ج 22 ، ص 350 )
عزیز احمد، برصغیر میں اسلامی کلچر ،بحوالہ سجزی،ص 49
وہ تاگا جو ہندو گلے اور بغل کے درمیان ڈالے رہتے ہیں (۲) وہ دھاگا یا زنجیر جو عیسائی ،مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں ۔ فیروز اللغات، مادہ ز۔ت ،ص 795
اسم ِ گرامی شیخ عبد اللہ شطاری تھا ۔آپ کا نسب شیخ شہاب الدین سہروردی سے جا ملتا ہے۔ شیخ محمد طیفوری کے دست ِ حق پر بیعت ہوئے اور خرقہ ِ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا ۔آپ نے رسالہ اشغال شطاریہ میں اپنے سلسلہ کے مقامات و احوال قلم بند کیئے ۔شطاریہ اصطلاح میں "تیز رو " کو کہتے ہیں مگر صوفیاء میں اس شخص کو شطار کہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے رتبہ کو پہنچے ۔ وہ صوفی جو علائق دنیاوی سے کاملاًقطع تعلق کر چکا ہو "ہیں ۔شطاریوں کا فرقہ نفی کو غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیتا ہے اور صرف اثبات سے غرض رکھتا ہے ۔، آپ نے 832ھ /1429ء کو وفات پائی۔آپ کا مزار قلعہ مندو کے اندر ہے شیخ پیر میرٹھی نے آپ کا عالی شان مزار بنوایا تھا ۔www.ziaetaiba.com accessed: Febrary 2/ 2019 ، ایضاً D.S.Margoliouth) ، شطاریہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،دانش گا پنجاب ،ج 11، ص 734،735)
ابو یذ ید (با یذ ید ) البسطامی طیفور بن عیسیٰ سروشان معروف ترین مسلم صوفیاء میں سے ایک تھے ۔چند مختصر وقفوں کے سوا ، جن میں وہ راسخ العقیدہ علمائے دین کی مخالفت کے باعث اپنے شہر سے بہت دور جا کر رہنے پر مجبور ہوئے۔ با یذید نے اپنی ساری زندگی بسطام میں بسر کی اور وہیں 261ھ /874ء یا 264 ھ /877۔ 878 ء میں وفات پائی ۔ انہوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی ۔( رٹر ،H.Ritter ، ابو یذ ید بسطامی ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، پنجاب دانش گاہ لاہور ، ج 1، ص 932۔234)
عزیز احمد ، بر ِ صغیر میں اسلامی کلچر ،ص 202
(:Feb2,2019 .ZIATAIBA.COM,accessed (WWWبحوالہ بہاء الدین شطاری ،رسالہ شطاریہ ، ص 6
ایضاً
بہاء الدین شطاری ، رسالہ شطاریہ ، ص 14
کامل قریشی ،ڈاکٹر،اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب ، ص 216۔217 accessed :January 8 /2019 www.urduchannal.in
مجد دیہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ تھے اٹھا ئیس واسطوں سے نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اورنگ زیب نے جان جاناں نام رکھا حافظ محمود شیرانی کے نزدیک مرزا مظہر جان جاناں نام ہے طبیعت میں تواضع ،افتقاروانکسار شیوہ تھا۔خلوت پسند تھے ۔بچپن میں ہی فقر و تصوف کا ماحول ملا۔ چار پیران ِ طریقت سے فیض حاصل کیا۔ 1195ھ/1781ء کو دہلی میں ایک نامعلوم شخص نے گولی ماری ،دو دن بعد وفات پا گئے ۔( مظہرجان جاناں ، ا دارہ ،اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج21 ، ص 272۔277)
آپ شاہ ولی اللہ کی دوسری زوجہ سے سب سے بڑے فرزند تھے ۔آپ کا مولد 1746ء اور مدفن 1824ء دہلی ہے ۔تعلیم و تربیت والد ماجد نے فرمائی ۔ شاہ صاحب کو تفسیر ، حدیث ، فقہ ، سیرت اور تاریخ کے علاوہ علم ِ ہیئت ،ہندسہ ، مجسطی ،مناظر ، اصطرلاب ،جر ثقیل ،طبیعات ، منطق ، مناظرہ ، اختلاف ملل و نحل ،قیافہ اور تاویل وغیرہ علوم و فنون پر بھی عبور حاصل تھا ۔ آپ کو عربی زبان سے بھی واقفیت تھی ۔( ڈاکٹر محمد خالد مسعود ، اٹھارویں صدی عیسوی میں برصغیر میں اسلامی فکر کے راہنما ، ادارہ تحقیقات اسلامی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد ، ص 325،327 )
اکرام ، رود کوثر،ص394
سید احمد شہید (1831-1786ء) ابتدائی تعلیم و تربیت تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی میں اپنے خاندان میں ہوئی ۔آپ امام شاہ ولی اللہ کے شاگرد اور تربیت یافتہ تھے ۔سید احمد شہید کی کوششوں سے معاشرے میں رائج بدعات و محدثات کا خاتمہ ہوا ۔آپ کے ہاتھ پر جو لوگ بیعت کرتے تھے وہ ان تین باتوں پر عمل کرتے تھے ۔ شرک سے دوری ، نماز کی پابندی اور شریعت کی پاسداری ۔سید صاحب جہاں تشریف لے جاتے تھے وہاں لوگوں کی قلبی حالت تبدیل ہو جاتی تھی اور خیر و برکت کے دروازے ان پر کھل جاتے تھے ۔(ابو الحسن ندوی ، تاریخ دعوت و عزیمت ،ج دوم ، حصہ ششم ، ص 533،534)
عزیز احمد،بر صغیر میں اسلامی کلچر،ص 239
جہانگیر بابر کی نسل سے ہندوستان کا چوتھا مغل شہنشاہ ،اکبر کا پہلا بیٹا تھا (1569ء 1667ء) جہانگیر اچھا پڑھا لکھا، ادب اورفن کا سرپرست اور انسان شناسی اور مسائل میں گہری نظر رکھنے والا نہایت شائستہ اور مہذب فرد تھا ۔ وہ ایک زیرک حکمران تھا ۔نرم اور کریم النفس بھی تھا ۔ وہ تشدد سے متنفر اور انصاف کا شیدائی تھا ۔ تخت نشینی کے فوراً ہی بعد اس گھنٹیوں سے مزین ایک طلائی زنجیر بنوا کر آگرے میں قصر شاہی میں لٹکانے کا حکم دیا تاکہ دن ہو یا رات ،کسی وقت مظلوم اور فریادی آکر اسے کھینچیں اور انصاف پائیں۔(بزمی انصاری و ادارہ، جہانگیر،اردو دائرہ المعارف الاسلامیہ ، ج 7 ، ص 548۔ 551)
معتمد خان ، اقبال نامہ جہانگیری ،کلکتہ ،1865 ء ،ص 170
عزیز احمد ،برصغیر میں اسلامی کلچر ، ص203
حاجی شریعت اللہ اس تحریک کے بانی تھے۔وہ 1781ء میں فرید پور بنگال میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم کے بعد مکہ مکرمہ چلے گئے 1818ء میں واپسی پر دینی اصلاح کا کام شروع کیا ۔اس تحریک کا مقصد فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے توبہ کرنا تھا ۔فرائض وہ جو اسلام میں فرض ہیں مثلا نماز ،روزہ ، حج وغیرہ اسی وجہ سے اس تحریک کا نام فرائضی تحریک پڑا ۔حاجی شریعت اللہ نے 1840ء میں وفات پائی ۔ (ڈاکٹر معین الدین ،فرائضی تحریک ، فکر ونظر ، اسلامک ریسرچ انڈکس ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ، والیم 7 ،ص 669۔671)
عزیز احمد ،اسلامی کلچر ،ص203
ایضاً
دُر گاہ ،ہندوؤں کی دیوی بھوانی ،شیو جی کی بیوی ، بد صورت عورت ،فیروز اللغات ، مادہ د ۔ر ، ص 659 ،
جن کا اصل نا م سید عثمان مروند ی تھا، (1177ء – 1274ء) سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، الٰہیات دان، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی رواداری کی تبلیغ کی بنا پر لعل شہباز قلندر تمام مذاہب کے پیروکاروں میں یکساں محترم تصور کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا خرقہ تابدار یاقوتی رنگ کا ہوا کرتا تھا اس لیے انہیں ‌"لعل"، ان کی خدا پرستی اور شرافت کی بنا پر "شہباز" اور قلندرانہ مزاج و انداز کی بنا پر "قلندر" کہا جانے لگا۔(سید ارتصیٰ علی کرمانی، سیرت پاك حضرت عثمان مروندی، مطبوعہ عظیم اینڈ پبلشرز ،لاہور،صفحہ 54)
اکرام ،رود ِ کوثر ، ص 17
تارا چند ، تمدن ِ ہند پر اسلامی اثرات ،ص 224
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ،ص 237
ایضاً ، ص 338،339
بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ گروہ ( غیر آغا خانی اسماعیلی )کی بھارتی اور پاکستانی شاخ جو ہندو سے مسلمان ہوئی۔ بوہرہ گجراتی لفظ ووہرہ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو ایک ہندو ذات تھی ،جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی، با لعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں .
( ur.m. wikipedia.org accessed: Febrary 5,2019)
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ،ص 240
ایضاٍ،ص 244
شاہ ولی اللہ ، البلاغ المبین ، لاہور ، 1890 ء، ص 33،34
شبلی نعمانی،مقالات، اعظم گڑھ 1930ء، ص4
عزیز احمد ، برصغیر میں اسلامی کلچر ، ص 245 ،246
تارا چند ،تمدن ہند پر اسلامی اثرات،ص 88،89
Published
2020-12-27