قریش کی امامت وسیادت ؛ ایک شرعی مطالعہ +The leadership of Quraysh – A Shar‘ī study

  • Dr. Hafiz Hassan Madni PU
Keywords: K

Abstract

In present times, there are a lot of misconceptions about the constituent of Islamic politics, which is the leadership of Quraysh, despite the fact that the mentioned issue is proven from the numerous Aḥādīth (Prophetic traditions) and the ijmā‘ (consensus) of the Muslim Ummah. Numerous reputable scholars of the subcontinent have also held such opinion and many books that have been published on this issue.

After a detail analytical study of these Aḥādīth, a researcher can reach to a comprehensive and suitable conclusion which this treatise professes along with relevant and reliable evidences.

References

سیدنا جابر بن سمرۃ سے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً...» صحيح مسلم، كِتَابُ الْإِمَارَةِ، بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ: رقم 4709 ’’بارہ خلفا (کے عہد) تک اسلام کا غلبہ جاری رہے گا۔‘‘
صحیح بخاری کی حدیث : وسَيَكُونُ بَعدي خُلَفَاءُ فَيَكثُرُونَ(3455)سے بھی خلفا کی کثرت کا علم ہوتا ہے ۔
"الموسوعة الفقهية" (6/ 219)،وزارة الاوقاف والشؤن الإسلامية، كويت 1427هـ
امامت کا لفظ وسیع المعنی ہے:’ مسلمانوں کی اجتماعیت‘ کے قائد کو امام کہتے ہیں، چاہے وہ نماز کا امام ہو یا سیاستِ نبویہ کا امام۔ ایسے ہی ہر چیز میں قائد ورہنما کو اما م کہا جاتا ہے جیسا کہ علوم وفنون کے اما م، حدیث وفقہ کے امام، لغت وشاعری کے امام۔ قرآن کریم کا وہ مرکزی نسخہ ’مصحفِ امام‘ ہے جو سيدنا عثمان نے لکھ کر اپنے پاس رکھ لیا اور پھر اس سے نسخے بنوائے۔ اور ’امام مبین‘ لوحِ محفوظ کو کہتے ہیں۔ برائی اور گناہ کے داعی کو بھی ائمہ کہتے ہیں جیسا کہ سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کی طرف اور آگ کی طرف بلانے والے ائمہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا...، ح 3668
فَقَدْ قَدَّمَ النَّبِيُّ ﷺسَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ فِي إِمَامَةِ الصَّلَاةِ وَوَرَاءَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ (فتح الباری: 13؍ 119)
صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ ﷺ وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ)، 2276
پہلے تینوں خلفاے راشدین بنو ہاشم سے نہیں تھے۔ ان تینوں کی خلافت پر اجماعِ امت سے علم ہوا کہ خلیفہ کے لئے بنو ہاشم سے ہونا بھی ضروری نہیں۔ (الموسوعۃ الفقہیہ: 6؍219) بعد ازاں قریش کے دو سلسلوں: اُمویہ اور عباسیہ میں اہل السنہ اور اہل تشیع کے مابین مشہور اختلاف پیدا ہوا کہ خلافت کو اولادِ علی میں ہونا چاہیے۔ اور اس کی تفصیلی بحث کا یہ موقع نہیں۔ تاہم ہر دوگروہ کا اس پر ضرور اتفاق ہے کہ خلافت خاندانِ قریش سے ہی ہوگی۔
امام رازی نے اس پر اجماع ذکر کیا ہے۔ (التفسير الكبير از امام رازی: 32/ 100،دار إحياء التراث، بيروت، 1420هـ)
صحیح بخاری: رقم 16، مسند احمد: 21839، حسن ... سنن ابن ماجہ: 2612
‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ)، قبل حدیث 3501
السنن الکبری للنسائی :كتاب القضاء، باب الأئمة من قريش،رقم (5942)، مسند احمد: 12329، 11898 صحَّحه الألباني في صحيح الجامع (رقم2758)
تحفة الطالب 250، دار ابن حزم، طبع سوم، 1416هـ، البدر المنير 8/ 20، دارالهجرة، الرياض 425هـ، المغني عن حمل الأسفار 2/ 1026
الفصل فی الملل: 4/ 74،،مكتبة خانجي، قاهرة، منهاج السنة النبوية 8/ 315، شرح نخبة الفكر 1/ 190، الأزهار المتناثرة في الأحاديث المتواترة از سيوطی، نظم المتناثر في الحديث المتواتر :1/ 158 دار الكتب السلفية، مصر ، طبع ثالث
التلخيص الحبير: 4/ 42، دارالكتب العلمية، بيروت 1419هـ
صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ،رقم 3495
‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ)، رقم 3501
صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ)، ح 3500
فتح الباری از حافظ ابن حجر: 6؍654 ،دار المعرفة - بيروت، 1379هـ
مسند احمد: 4380، السلسلۃ الصحیحہ: 1552 ، ورجالہ ثقات (فتح الباری: 13؍116)
فتح الباری از حافظ ابن حجر : 13؍116 بحوالہ سيرتِ ابن اسحٰق(م 767ء)
صحيح: ذكره الحافظ ابن حجر في الفتح، وقال: أخرجه عبد الرزَّاق بإسناد صحيح، لكنَّه مرسل وله شواهد، وصحَّحه الشيخ الألباني في صحيح الجامع "2966"
مجموع فتاوی ابن تيمية: 19؍30، مجمع الملك فهد ، المدينة النبوية، 1416ه
صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ (بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ، ح 7142
اسْتَخْلَفَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ حِينَ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ (مستدرک حاکم: 5181)
مستدرک حاکم : 5005، وقال الذہبی: علیٰ شرط البخاری ومسلم
تاریخ صغیر: ۳۱،مستدرک حاکم:۵۱۴۴،حلیۃ الاولیا: ۱؍۱۰۲
دیکھیں: اسد الغابہ اور سیر اعلام النبلاء
مسند احمد، مسند عمر بن خطاب: ح 108، حسن لغیرہ
مسند احمد، مسند عمر بن خطاب: ح 323، صحیح... جبکہ اسی واقعہ کی سند کو حافظ احمد شاکر نے اپنی محقق مسند احمد میں منقطع؍ ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ (1؍201، رقم 108)کیونکہ شریح بن عبید اور راشد بن سعد حمصی، دونوں کی سیدنا عمر سے ملاقات ثابت نہیں ۔
الاحکام السلطانیہ از امام ماوردی: ص 20، دار الحديث - القاهرة
ابن حجر: فتح الباري 13/ 119، وحكى الإجماع كذلك النووي
ابن حزم: الفصل في الملل 4/ 74
صحیح بخاری میں ہے: مَا أَجِدُ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا، وَعُثْمَانَ، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَسَعْدًا، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: يَشْهَدُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، كَهَيْئَةِ التَّعْزِيَةِ لَهُ... (صحیح بخاری: 3700)
الموسوعۃ الفقہیہ: 6؍ 219 بحوالہ ابن عابدين 1 / 368، ومغني المحتاج 4 / 0 13، وروضة الطالبين 6 / 312، 10 / 48، ومطالب أولي النهى 6 / 265، وحاشية الدسوقي 4 / 298
الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدین از امام حصکفی :1؍ 548، دار الفكر،بيروت،1412ه
الرد المحتار از ابن عابدین:1؍ 548، دار الفكر،بيروت،1412ه
’اسلامی ریاست کے اصول ومبادی‘ از مولانا امین احسن اصلاحی ، ص 57، مختصراً، دار التذکیر، 2002ء
مقدمہ ابن خلدون: 1؍ 242، محقق خلیل شحادۃ، دار الفکر، بیروت، 1408ھ
ایضاً: ص 245
ایضا: 243
ایضا: 243
عبد الرحمن بن محمد ابن خلدون ، مقدمہ ابن خلدون(ديوان المبتداء والخبر...)دارالفكر، بیروت1988ء:1؍241
عبد الرحمن بن محمد ابن خلدون ، مقدمہ ابن خلدون:1؍242
صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ)، ح 3500
مسند احمد: 16827، سند جید، قال ابن حجر: "وسنده جيد، وهو شاهد قوي(فتح الباري: 13/ 116)
الشنقيطي: أضواء البيان 1/ 24 ... حكم اشتراط القرشية في الإمامة الكبرى از طالب بن عمر بن حيدرة الكثيري میں بھی اس موضوع پر بعض مفید تفصیلات مل سکتی ہیں۔
السلسلة "الصحيحة" (1552)، مكتبة المعارف ، الرياض، 1425هـ
"لقاء الباب المفتوح" (185/ 19) بترقيم الشاملة ، موقع الشبكة الإسلامية
فروع الایمان : ص 77 بحوالہ ’اسلام اور سیاست ‘از افادات مولانا محمد اشرف علی تھانوی: ص 94
اسلام کا سیاسی نظام از مولانا محمد اسحق سندیلوی: ص 76، 78، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، 1989 ء
اسلام اور جدید سیاسی نظریات از مولانا محمد تقی عثمانی: ص 219، اداره اسلامیات، لاہور
فیض الباری از مولانا انور شاہ کشمیری: ص 4؍498
اسلام اور جدید سیاسی نظریات از مولانا محمد تقی عثمانی: ص 217
اسلام اور جدید سیاسی نظریات از مولانا محمد تقی عثمانی: ص 217، نومبر 2010ء
خلافت وجمہوریت از مولانا عبد الرحمن کیلانی: ص 27، مکتبہ السلام، 2002ء
فتح الباری از حافظ ابن حجر: 13؍ 117
Published
2021-06-24