متعارض احادیث میں ترجیح کے ذریعے اختلاف کو دور کرنے میں امام طحاوی رحمہ اللہ کا منہج

  • Dr. Muhammad Waris Ali Lahore Garrison University, DHA phase VI Lahore
Keywords: Islam, Qurān, Contradictory Ḥadīth, Preference, al-Ṭaḥāwī.

Abstract

Some of the Ḥadīths seem to be against one another and create confusion. Early Muslim theologian, al-Ṭaḥāwī (d321/933) has discussed this issue in his book Sharaḥ M’āni al-Athār and derived rules in the light of Qur’an and Sunnah to resolve contradiction. This article aims to highlight the principles of preference used by al-Ṭaḥāwī (d321/933) in his book to resolve contradiction in Ḥadīths. The examples from his book have been taken, discussed and analyzed. Al-Ṭaḥāwī (d321/933) seems to give preference to the Ḥadīths that are authentic and have more chains of narrating the Ḥadīths. He also prefers the Ḥadīth which is clearer in its meaning to the complicated one. It is also notable that he rejects the Ḥadīth that has weak narrators in comparison with sound narrators.

References

۔ مجدد الدین فیروز آبادی ، "القاموس المحیط" ،مؤسسۃ الرسالۃ،1426، 1/ 221
۔ ابن منظور افریقی ، " لسان العرب" ،دار صادر، بیروت، س ن، 2/ 445
۔ آمدی، "الاحکام فی اصول الاحکام" ، المکتب الاسلامی ،بیروت،ت ن،4/ 460
۔ شوکانی، "ارشاد الفحول"، مطبعۃ السعادۃ،مصر ،الطبعۃ الاولی،1327ھ ،ص 241
۔ ان کا پورا نام مسعودبن عمر بن عبد اللہ سعدالدین تفتازانی ہے آپ تفتازان میں 711ھ کو پیدا ہوئے اور سمرقند میں 793ھ کو وفات پائی ان کی اہم تالیفات میں التلویح علی التوضیح ہے۔(شذرات الذھب،8/547)
۔ سعد الدین تفتازانی، مسعودبن عمر "التلویح علی التوضیح " ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ت ن، 2/ 103
۔ الجرجانی ،علی بن محمد،سید شریف ،"معجم التعریفات"تحقیق محمد صدیق منشاوی،دار الفضیلہ،قاہرہ ، ت ن ، ص 51
۔ محمود عبد الرحمان عبد المنعم ،"معجم المصطلحات و الالفاظ الفقهیة" ،دار الفضیلہ،قاہرہ ، ت ن ، ص 454
۔ ان کا پورا ناممحمد بن محمد ، المعروف ابن أمير الحاجہےسن پیدائش 825ه ہے سن وصال 879هـ ہے ان کی معروف تصانیف میں التقرير والتحبير شرح كتاب التحرير لابن الهمام في أصول الفقه ہے(شذرات الذهب )،(490/9الأعلام749/)
۔ ابن امیر الحاج،" التقریر والتحبیر"،دار الکتب العلمیہ ،بیروت،الطبعۃ الاولی،1419ھ،3/ 17
۔ اعتراضات وجوابات کی تفصیل ملاحظہ کرنے کے لیے دیکھئے الاحکام‘‘ للآمدی4/462،التعارض والترجیح للبرزنجی1/80،التعارض والترجیح للحفناوی، ص 279
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی الکعبۃ،ص 1/ 266
؛ بخاری،"الجامع الصحیح"، کتاب الصلوۃ،باب قول اللہ تعالی واتخذوا من مقام ابراہیم
؛مسلم ،"الجامع الصحیح"،کتاب الحج ،باب استحباب دخول الکعبۃ للحاج وغیرہ
؛نسائی ،"السنن "، مناسک الحج،باب التکبیر فی نواحی الکعبۃ
۔ البقرہ 2: 125
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی الکعبۃ، ص 1 /267
؛ بخاری،"الجامع الصحیح"، کتاب الشہادات، باب اذا شھد شاھداو شھود بشئ۔۔
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی الکعبۃ، ص 1/ 267
؛ بخاری،"الجامع الصحیح"، کتاب الصلوۃ، باب الابواب والغلق للکعبۃوالمساجد
؛ مسلم ،"الجامع الصحیح"، کتاب الحج ، باب استحباب دخول الکعبۃ للحاج والصلوۃ فیہا
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ فی الکعبۃ ،ص 1/267
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، ص 1/ 269
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر
؛ بخاری،"الجامع الصحیح"، ابواب تقصیر الصلوۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ۔۔
؛ مسلم ،"الجامع الصحیح"، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب صلاۃ المسافرین وقصرھا
؛ نسائی، "السنن"، کتاب الصلاۃ ، باب کیف فرضت الصلاۃ
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب الصید یذبحہ الحلال فی الحل ،ص 1 / 449
؛مسلم ،"الجامع الصحیح"،کتاب الحج ،باب تحریم الصید للمحرم
؛نسائی ،"السنن " ، کتاب المناسک،باب ما لا یجوز للمحرم اکلہ من الصید
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب الصید یذبحہ الحلال فی الحل ،ص 1/ 449
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب الصید یذبحہ الحلال فی الحل ،ص 1/ 451
؛ ترمذی ،"الجامع" ،کتاب الحج ، باب ما جاء فی اکل الصید للمحرم
؛ نسائی،"السنن " ،مناسک،باب ما لا یجوز للمحرم اکلہ من الصید
؛ ابو داود،"السنن "،المناسک،باب لحم الصید المحرم
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب الصید یذبحہ الحلال فی الحل ،ص1/ 451
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب الصید یذبحہ الحلال فی الحل ،ص1/ 451
۔ عمرہ بنت عبدالرحمان بن سعد بن زرارہ انصاریہ ہیں اور انہوں نے اکثر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا یہ ثقہ ہیں ان کا انتقال 100 ہجری سےقبل ہوا ایک قول کے مطابق اس کے بعد ہوا (تقریب التہذیب،ص 750)
۔ ان کا پورا نام زِيَاد بن ابی سفْيَان بْن حرب بْن أميہ بْن عَبْدشَمْس ہےان کی والدہ کا نام سمیہ جاريہ الحارث ابن كلدہ الثقفی ہے جب عمرو بن حریث کوفہ سے چلا گیا تو یہ اس کے گورنر بنے اور جب بصرہ سے سمرہ بن جندب چلے گئے تو اس کے گورنر بن گئے یہ نہ قراء میں شمار ہوتے تھے نہ فقہاء میں لیکن حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کیں آپ فتح مکہ والے سال طائف میں پیدا ہوئے اور 53 ہجری کو کوفہ میں وفات پائی(الطبقات الكبرى (7/70)
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب مناسک الحج،بَابُ الرَّجُلِ يُوَجِّهُ بِالْهَدْيِ إِلَى مَكَّةَ
؛ بخاری،"الجامع الصحیح"،کتاب الحج،باب تقلید الغنم
؛مسلم،"الجامع الصحیح"،کتاب الحج، باب استحباب بعث الھدی الی الحرم لمن لا یرید الذھاب
؛نسائی،"السنن"،کتاب مناسک الحج،باب فتل القلائد
۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقَدَ قَمِيصَهُ مِنْ جَيْبِهِ، حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا أَنْ تُقَلَّدَ الْيَوْمَ وَتُشْعَرَ، عَلَى مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَلَبِسْتُ قَمِيصِي وَنَسِيتُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأُخْرِجَ قَمِيصِي مِنْ رَأْسِي وَكَانَ بَعَثَ بِبُدْنِهِ فَأَقَامَ بِالْمَدِينَة "شرح معانی الآثار" ،کتاب مناسک الحج،بَابُ الرَّجُلِ يُوَجِّهُ بِالْهَدْيِ إِلَى مَكَّةَ
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ،کتاب مناسک الحج،بَابُ الرَّجُلِ يُوَجِّهُ بِالْهَدْيِ إِلَى مَكَّةَ ،
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج , باب من احرم بحجۃ فطاف لھا قبل ان یقف بعرفۃ ، ص 1/462
۔ الحج 22: 33
۔ ابُو ذَرّ غفاری فقہاء صحابہ میں شمار ہوتے ہیں علم کے بے حد حریص تھے (الطبقات الكبرى (2/270)
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج , باب من احرم بحجۃ فطاف لھا قبل ان یقف بعرفۃ، ص 1/466
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب الصوم ،باب الصوم بعد النصف من الشعبان ، ص 1/ 397
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب ما یلبس المحرم من الثیاب ، ص 1 /427
؛ مسلم ، "الجامع الصحیح"، کتاب الحج ، باب ما یباح للمحرم بحج و عمرۃ وما لا یباح
؛ احمد،"مسند احمد" باقی مسند مکثرین،مسند جابر بن عبداللہ،حدیث نمبر 13941، ص 206
۔ طحاوی ،"شرح معانی الآثار" ، کتاب مناسک الحج، باب ما یلبس المحرم من الثیاب ، ص 1 /428
۔ ایضا
؛احمد،"المسند"،مسند المکثرین من الصحابہ،مسند عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ
۔ ایضا
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، 1/511
؛مسلم ،"الجامع الصحیح"، کتاب النکاح،تحریم نکاح المحرم وکراہۃخطبتہ
؛ ترمذی،"الجامع"، ابواب الحج ، باب ما جاء فی کراہیۃ نکاح المحرم
۔ طحاوی،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، 1/511
؛بخاری،"الجامع الصحیح" ،کتاب الحج ، باب تزویج المحرم
؛مسلم ،"الجامع الصحیح"، کتاب النکاح،تحریم نکاح المحرم وکراہۃخطبتہ
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار"،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، 1/511
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار"،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، 1/511
۔ ان کا نام نبیہ بن وهب بن عثمان بن ابی طَلْحَہ بْن عبْد العزّى بن عثمَان بْن عَبدالدَّارِ بْنِ قُصی ہے اور والدہ کا نام سُعْدى بِنْتُ زَيْدِ بْنِ مُلَيص مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيم ہے ان کا نانا زَيد بْن مُليص بدر کے قیدیوں میں گرفتار ہوا۔نبیہ سے نافع مولی ابن عمر نے روایات بیان کی ہیں ولید بن یزید بن عبدالملک کے فتنہ میں یہ فوت ہوئے (الطبقات الكبرى، أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي بالولاء، البصري، البغدادي المعروف بابن سعد مكتبة العلوم والحكم ، المدينة المنورة، الثانية، 1408)ابن ہجر نے انہیں ثقہ کہا ہے اور تاریخ وفات 110 ھ بتائی ہے (تقريب التهذيب 292)
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار"،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، ص1/511
؛ ترمذی،"الجامع"، ابواب الحج ، باب ما جاء فی کراہیۃ تزویج المحرم
؛دارمی ،"السنن " ، کتاب المناسک ، باب فی تزویج المحرم
۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ابن معین کے مطابق ان کا نام ابراہیم ہے ایک نام ھرمز بھی نقل کیا گیا ہےعلی بن المدینی اور مصعب کے مطابق ان کا نام اسلم ہےاور ایک قول کے مطابق ان کا نام ثابت بھی ہےیہ قبطی تھےاور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے انہوں نے ان کو رسول اللہ ﷺ کے لئے ھبہ کر دیاانہوں نے ام فضل کے ساتھ مکہ میں قبول اسلام کیا مگر مسلمان ہونا ظاہر نہیں کیا احد اور خندق میں شرکت کی فتح مصر میں بھی شامل ہوئے اور 40 ھ کو وفات پائی (اسد الغابہ لابن الاثير الجزری (1/156)
۔ ان کا نام مطر بن طھمان الوراق ہےیہ اھل خراسان میں سے تھےحدیث کے حوالے سے ان میں ضعف پایا جاتا ہے (الطبقات الكبرى،ابن سعد (المتوفى: 230ھ)،دار الكتب العلميہ، بيروت،الطبعةالاولى، 1410 هـ - 1990 م 7/189)
۔ طحاوی،"شرح معانی الآثار" ،کتاب الحج،باب نکاح المحرم ، ص 1/511
۔ ایضا
۔ ایضا
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب النکاح، باب النکاح بغیر ولی عصبہ، 2/ 7
؛ ترمذی،"الجامع "، ابواب النکاح، باب ما جاء لا نکاح الا بولی
؛ ابن ماجہ،"السنن"، کتاب النکاح ، باب لانکاح الا بولی
؛ابو داود،"السنن"،کتاب النکاح،باب فی الولی
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب النکاح ، باب ما جاء لا نکاح الا بولی 2 /7
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب النکاح ، باب ما جاء لا نکاح الا بولی 2 /7
۔ ایضا 2 /9
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب النکاح ، باب ما جاء لا نکاح الا بولی 2/9
؛نسائی،"السنن"، کتاب النکاح،باب نکاح الابن امہ
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب السیر، باب میراث المرتد لمن ھو، 2 /146
؛ ترمذی،"الجامع "،الفرائض ، باب ما جاء فی ابطال المیراث بین المسلم والکافر
؛ ابن ماجہ،"السنن"، کتاب الفرائض ، باب میراث اھل الاسلام من اھل الشرک
؛ بخاری،"الجامع الصحیح "،کتاب الحج، باب توریث دور مکۃ وبیعھا
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب السیر، باب میراث المرتد لمن ھو، 2 /146
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب السیر، باب میراث المرتد لمن ھو، 2 /146
۔ مسور بن مخرمہ بن نوفل قرشی کی ولادت ہجرت مدینہ کے دو سال بعد ہوئی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی محصوری دوران 64ھ میں وفات پائی (الاصابہ 3/400؛ سئر3/390)
۔ مروان بن الحکم بن ابی العاص الاموی ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے کبار تابعین میں سے ہیں 65 ھ کو انہوں نے وفات پائی(الاصابہ 3/456 ؛ سئر3/476)
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب الصید والذبائح والاضاحی،باب البدنۃ عن کم تجزی فی الضحایا والھدایا
۔ وَهُوَ مَا يُهْدَى إِلَى البَيْت الحَرام مِنَ النَّعَم لِتُنْحر(المبارک بن محمد،ابن الاثیر الجزری "النہایہ فی غریب الحدیث والاثر" 5/256)
۔ البَدَنَة تَقَعُ عَلَى الْجَمَلِ وَالنَّاقَةِ وَالْبَقَرَةِ، وَهِيَ بِالْإِبِلِ أَشْبَه (المبارک بن محمد،ابن الاثیر الجزری "النہایہ فی غریب الحدیث والاثر" 1/108)
۔ طحاوی، "شرح معانی الآثار" ، کتاب الصید والذبائح والاضاحی،باب البدنۃ عن کم تجزی فی الضحایا والھدایا
۔ ایضا
Published
2021-06-28